Skip to main content

بلاگ

 نفسیات عام آدمی کے لئے
شاہ عالم علیمی

جذبہ خیال کا ایندھن ہے۔ دماغ خیال کا گھر ہے اور ذہن اس کا مکان ہے۔ اس مکان کے تین یا چار منزل ہیں۔ تین کا تو علم ہے لیکن چوتھے کا ہونا صرف میرا خیال ہے۔ یہ تین شعور تحت الشعور اور لاشعور ہے۔ 


لاشعور میں بہت نمایاں بہت سخت بہت نازک بہت متشدد بہت رنگین خیالات قید ہوتے ہیں۔ تحت الشعور میں انسان کا علم محفوظ ہوتا ہے۔ جبکہ شعور میں اس کے حاصل کیے گئے معلومات یا عام باتیں یا مشاہدات۔ 


پھر چوتھی منزل کون سی ہے؟ جیسا کہ میں نے اوپر کہا، یہ میرا زاتی خیال ہے۔ میرے نزدیک چوتھی منزل یا اس سے اوپر کی منزل میں وہ علم ہے جسے ہم مطلق سچ کہہ کر تلاش کررہے ہیں۔ ممکن ہے اس کا تعلق ہمارے مادی دماغ اور اس کے فاعل زہن سے براہ راست نہ ہو۔ یعنی ہوسکتا ہے یہ وہی ہو جسے کچھ لوگ اثیر کہتے ہیں۔


  کچھ لوگوں کے نزدیک اثیر وہی جگہ/مقام/مکان/ (خلا؟) ہے جہاں سے روح اس دنیا میں اکر ایک جسم میں داخل ہوتی ہے۔ یا ایک جسم میں داخل ہونے کا فیصلہ کرکے اس دنیا میں اتی ہے۔ مگر میرے نزدیک اثیر وہ سمندر ہے جس کے پانی سے ایک جسم میں تھوڑا سا پانی شامل کیا جاتا ہے۔ یعنی روح۔ 

بہر حال تحت الشعور اور شعور کا رشتہ زیادہ واضح ہے۔ 

تحت الشعور کیا ہے؟ میں بہت چھوٹا تھا جب اکیلے اپنے گاوں سے ایک دور دراز گاوں جارہا تھا۔ ایک پہاڑی علاقے سے گزرتے ہوئے اچانک ایک عجیب آواز میرے کانوں میں پڑی۔ ظاہر ہے میں ڈر گیا۔ بہت بعد میں میں جان گیا یہ اُلو کی آواز تھی۔ پھر اور بعد میں اُلو کے بارے میں میں مزید جان گیا کہ یہ کس قسم کا جانور ہے۔ اور اب جب بھی مجھے یہ آواز یا اس قسم کی کوئی آواز سنائی دیتی ہے تو میرے زہن میں بچپن کا یہ واقعہ فوراً اجاتا ہے۔ یہ دراصل میرے تحت الشعور میں محفوظ ہے۔ 

کیوں محفوظ ہے؟ 

کیونکہ ڈر کی وجہ سے میں نے اس کا کافی سخت ردعمل لیا تھا۔(میں نے لیا تھا؟ یا میرے دماغ نے یا زہن نے؟ یا کسی اور شے نے؟) بہرحال اس واقعہ کی وجہ سے وہ ایک دم ہمیشہ کے لئے میرے زہن کے اس خاص دریچہ یا منزل میں محفوظ ہے۔ 

تحت الشعور وہ جھیل ہے جہاں سے معلومات کا پانی شعور میں اور شعور سے اپ کے ہاتھوں کے زریعے قلم کی نوک پر سے قرطاس پر اترتے ہیں۔ یا آپ کی زبان پر آواز کی شکل میں اتے ہیں۔

شعور کیا ہے؟  

جیسے کہ پہلے ہی مذکور ہوا شعور زہن کی منزل یا دریچہ ہے۔ جس تک خیال یا سوچ کی پہنچ سب سے پہلے خودکار طریقہ اور انتہائی اسانی سے ہوتی ہے۔ 

 تاہم فرائیڈ کے نزدیک شعور کسی شے کا خیال ہے جو بیغیر اسے دیکھے یا سوچے ہمارے زہن میں آ موجود ہوتا ہے۔ لمحہ بہ لمحہ اور ہمیں اس چیز کا پورا شعور اور تعقل ہو۔ 

لاشعور کے بارے میں بھی اوپر مذکور ہوا۔ لیکن اس پر مزید بات کرنے سے پہلے یہ بتادوں کہ فرائید کے نزدیک لاشعور دراصل ان خیالات کی کیفیت ہے جو زہن میں موجود تو ہو لیکن ہمیں ان کا ادراک نہ ہو۔ ان کا تعقل نہ ہو الا کسی اور شے کے ریفرنس سے۔


لاشعور کو میں نے زہن کی تیسری منزل کہا ہے۔ اور یہ بتایا ہے کہ اس میں بہت نمایاں بہت سخت بہت نازک بہت متشدد بہت رنگین خیالات قید ہوتے ہیں۔

غور فرمائیں کہ میں نے محفوظ کے بجائے قید کہا ہے۔ اس کی وجہ ان خیالات یا علوم یا معلومات کی نوعیت ہے۔ 

لاشعور میں محفوظ معلومات یا خیال انسان کو نارمل زندگی گزارنے نہیں دیتا۔ مثال کے طور پر بچپن یا جوانی کے کسی حصے میں اگر انسان پر سخت قسم کا زہنی، جسمانی یا جنسی تشدد ہوا ہو تو تشدد کا یہ واقعہ اس کے لاشعور میں محفوظ رہتا ہے۔ اور وہاں سے یہ پورے جسم مع زہن و دماغ کو کنٹرول کرتا ہے۔ اور ایسا انسان ہسٹریا یا کسی اور نفسیاتی مرض کا شکار ہوجاتا ہے۔ 

مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مریض کو اس واقعہ کا علم نہیں ہوتا۔ کیوں؟ کیونکہ علم تو شعوری ہوتا ہے لیکن یہ خیال/معلومات اس کے لاشعور میں قید ہے۔ معلومات تحت الشعور سے شعور میں تو اسانی سے اتے ہیں لیکن لاشعور سے تحت الشعور میں انے کے لئے جس 'دروازے' سے انا پڑتا ہے وہاں ایک داروغہ اس کو تحت الشعور میں انے نہیں دے رہا۔ اس کی ایک اہم وجہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر کسی ناخوشگوار واقعہ کو بھولنے کی انسانی فطرت ہے۔ 

فرض کریں ایک آدمی اپنی بیٹی سے بے پناہ محبت رکھتا ہے لیکن کار حادثے میں اچانک اس کی انکھوں کے سامنے اس کی بیٹی کی جان جاتی ہے۔ یہ اس ادمی کے لئے صرف ایک کار حادثہ اور ایک عزیزہ کی موت نہیں ہے

 بلکہ ایک شدید ترین زہنی تشدد ہے۔ یہ ادمی جس پر تشدد ہوا ہے اس واقعہ کو فطرتِ انسانی کی وجہ سے بھولنا چاہتا ہے مگر حادثہ اس کے لاشعور میں محفوظ ہوکر اس کے زہن، دماغ اور پورے جسم کو کنٹرول کررہا ہے۔ 

میں نے لاشعور میں محفوظ خیالات کی نوعیت کا مخلتف نام اوپر گنوایا ہے۔ اس سلسلے میں میں آپ سے پوچھ سکتا ہوں کہ کیا آپ نے مشہور ہالی ووڈ فلم 'دی بیوٹی فل مائینڈ' دیکھی ہے؟ اس فلم پر بات کرنے کے لئے یہاں وقت نہیں ہے لیکن آپ اسے ضرور دیکھیں اور مجھے بتائیں کہ آپ نے اس سے کیا سمجھا۔ 


آپ نے دیکھا کہ میں نے جذبہ کو خیال کا ایندھن کہا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہوا؟ اس کو بھی ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ میں یہ تحریر ایک جذبے کے تحت لکھ رہا ہوں۔ مجھے یہ لکھنے کا خیال تو ہے لیکن اگر جذبہ نہ ہو تو وہ خیال صرف ایک خیال ہے جو زہن کے ایک خاص مقام پر موجود ہے۔ اسے کوئی تحریک نہیں ہوگی جب تک کہ جذبہ نہ ہو۔ 

خیال سے میرے اپنے ایک شعر کا خیال 'دماغ' میں آیا؛  

تیرے خیال کے بِنا آخرش زوال ہے میرا

تیرا خیال دل میں نہ آئے یہ خیال ہے میرا

 خیال شعور یا تحت الشعور میں ہوتا ہے دل میں نہیں۔ لیکن شعر میں بیان کردہ یہ شاعری والا خیال ہے۔ 

خیال ہر قسم اور رنگ کے ہوتے ہیں۔ لیکن انسانی زندگی میں ان خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جذبہ درکار ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر انقلابی تو دنیا میں ہزاروں ہیں مگر عملی میدان میں انقلاب پیدا کرنے والے چی گویرا نیلسن منڈیلا وغیرہ چند ہی ہیں۔



نفسیات عام ادمی کے لئے - #ش_ع_ع

جاری ہے ۔۔۔

Comments